13 مئی 2012 - 19:30

بحرين اس وقت انتہائي فيصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں ميں شدت کے ساتھ جاري مظاہروں سے آل خليفہ کي شاہي سرکار کے لئے خطرے کي گھنٹي بجنے لگي ہےـ

ابنا: چودہ فروري نامي انقلابي تنظيم نے خالي شکم طاغوتي طاقتوں کے محلوں کو متزلزل کر ديں گے جيسے نعرے کے ساتھ اپنے مظاہروں کي گونج دنيا والوں کے کانوں تک پہنچا دي ہےـ

حاليہ دنوں بحرين کےعوام نے ملک بھر ميں مظاہرے کرکے پہلے سے زيادہ محکم عزم و  ارادے کے ساتھ آل خليفہ حکومت کي سرنگوني کے نعرے لگائےـ

سب سے اہم نکتہ يہ ہے کہ بحرين کے حکام سياسي مذاکرات کا راستہ اختيار کرنے کے بجائے اب بھي دھونس اور دھمکي کي زبان ميں بات کر رہے ہيں ـ

چنانچہ بحريني حکومت نے سياسي و سماجي کارکنوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ہي ملک کے مذہبي رہنماؤں کو ڈرانے دھمکانے کي مذموم حرکت بھي شروع کر دي ـحکومت کے اس اقدام پر سياسي اور انقلابي حلقوں ميں شديد غم و غصہ چھا گيا ہےـ الوفاق، الوعد، نيشنل ڈيموکريٹک موومنٹ اور الاخاء جيسي سياسي جماعتوں نے الگ الگ بيانوں ميں آل خليفہ حکومت کے ہاتھوں عوام کي سرکوبي کي مذمت کي اور انساني حقوق کي خلاف ورزي کے مزيد افشاء پر زور دياـ سياسي جماعتوں نے آل خليفہ حکومت کے جرائم کے افشاء کا مطالبہ ايسے وقت کيا ہے کہ جب اقوام متحدہ کي انساني حقوق کي کونسل دو ہفتے بعد بحرين ميں انساني حقوق کي صورت حال کا جائزہ لينے والي ہےـ

اب تک بحرين کي انساني حقوق کي انيس تنظيموں نے ملک ميں انساني حقوق کي پامالي کي رپورٹيں انساني حقوق کي کونسل کو  پيش کي ہيں ـ سنہ انيس سو گيارہ کے آخري ايام ميں بحرين کے آزاد انساني حقوق کميشن نے بھي اپني رپورٹ ميں بے رحمانہ قتل عام، ايذا رساني اور سرکاري دفاتر سے کارکنوں کے اخراج کي رپورٹ  پيش کي ہے جس ميں کہا گيا ہے کہ يہ سارے جرائم عوام الناس کو پرامن مظاہروں ميں شرکت سے روکن کے لئے انجام ديئےگئے ہيں ـ

اب تک انساني حقوق کونسل اور ديگر عالمي اداروں کي جانب سے بحرين ميں آل خليفہ کے ذريعے انساني حقوق کي پامالي کے سد باب کے لئے کوئي موثر کارروائي نہيں کي گئي ہے بس بعض اوقات ان کي طرف سے آل خليفہ حکومت پر کوئي سطحي سي نکتہ چيني ہو جاتي ہےـآل خليفہ اور اس کے مغربي حامي يہ سمجھتے ہيں کہ سختي کرکے وہ انقلابيوں کي صفوں ميں انتشار پيدا کر ديں گے جبکہ جيسے جيسے وقت گزر رہا ہے لوگوں کا اتحاد اتنا ہي مضبوط ہو رہا ہے اور آل خليفہ حکومت کا اصلي چہرہ سامنے آتا جا رہا ہے-

.......

/169